قرآنی تصور ازدواج کی روشنی میں زوجین کا معاشرتی دائرہ کار (قسط اول)
محل انتشار: دوفصلنامه مطالعات علوم قرآن، دوره: 1، شماره: 2
سال انتشار: 1397
نوع سند: مقاله ژورنالی
زبان: فارسی
مشاهده: 102
فایل این مقاله در 22 صفحه با فرمت PDF قابل دریافت می باشد
- صدور گواهی نمایه سازی
- من نویسنده این مقاله هستم
استخراج به نرم افزارهای پژوهشی:
شناسه ملی سند علمی:
JR_MAQ-1-2_001
تاریخ نمایه سازی: 1 دی 1403
چکیده مقاله:
مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کی دو پہیی ہیں ۔ زندگی کی گاڑی نہ مرد کی بغیر چل سکتی ہی نہ عورت کی بغیر۔ ان میں سی کوئی ایک بھی زندگی سی نکل جائی تو دوسری کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہی۔ابتدائی صحف آسمانی سی قران مجید تک ہر اسمانی کتاب میں عورت کی مقام، اس کی کردار اور تحفظ کی باری میں واضح ہدایات نازل کی گئی ہیں ۔ خواتین کی معاشرتی کردار کی تجزیاتی مطالعی کی طرف ائیں تو یہ بات واضح ہی کہ جہاں حضرت ادم علیہ السلام کی تخلیق کا تذکرہ ہوا، وہاں ان کی تخلیق کا مقصد خلافت ارضی کی تفویض بتایا گیاہی۔اس لحاظ سی زمین کی اباد کاری، اس میں معاشری کی تشکیل اور اس کی انتظام و انصرام کی ذمہ داری حضرت انسان کو سونپی گئی ہی۔ انسان یا اولاد ادم صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی ہیں اور کاروبار زندگی کو جادۂ مستقیم پر استوار کرنی اور رکھنی میں ان کی کردار کی اہمیت مردوں کی کردار سی کسی قدر کم نہیں ۔ تاریخ میں عورت سمیت کئی دیگر انسانی طبقات پر ظلم وستم اور ناانصافی کا ذکر ملتا ہی، مگر صنفی بنیادوں پر مرد عورت کی معاشرتی کردار پر اس انداز سی بحث کی نوبت شاید کبھی نہیں ائی جس انداز سی دور جدید میں کچھ عرصی سی یہ موضوع گفتار و کردار بنا ہوا ہی۔ مسلمان جس طرح اپنی دینی ورثی سی عملی طور پر دور ہوکر اپنی دیگر معاشرتی اقدار کو کھو بیٹھی ہیں ، اسی طرح خواتین کی حقوق کی پامالی بھی معاشری میں ایک روگ کی شکل اختیار کر گئی ہی۔ پاکستان کی معروضی حالات میں اس کا پس منظر قیام پاکستان سی پہلی کی رسم و رواج بھی ہو سکتی ہیں اور اس میں وڈیرہ شاہی کی مخصوص حالات کا دخل بھی ہو سکتا ہی۔ چوں کہ ظلم وستم کا ہمیشہ رد عمل ہوتا ہی۔
کلیدواژه ها:
نویسندگان
اکرام الحق یسین
سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل حکومت پاکستان، اسلام آباد