شعوب و قبائل کا قرآنی فلسفہ اور عصر حاضر میں اس کی ساتھ تعامل
محل انتشار: دوفصلنامه مطالعات علوم قرآن، دوره: 1، شماره: 2
سال انتشار: 1397
نوع سند: مقاله ژورنالی
زبان: فارسی
مشاهده: 77
فایل این مقاله در 11 صفحه با فرمت PDF قابل دریافت می باشد
- صدور گواهی نمایه سازی
- من نویسنده این مقاله هستم
استخراج به نرم افزارهای پژوهشی:
شناسه ملی سند علمی:
JR_MAQ-1-2_005
تاریخ نمایه سازی: 1 دی 1403
چکیده مقاله:
قرآن مجید میں شعوب و قبائل کا مقصد انسانوں کی مابین رنگ ونسل اور قومیت میں اختلاف کی بنا پر تعارف و پہچان بتایا گیا ہی ۔ یہ واضح کیا گیا کہ عند اللہ تکریم صرف متقی کی ہوگی۔ اسی فلسفہ کی لیی نبی اکرم ﷺ کو "وانذر عشیرتک الاقربین" کا حکم ہوا ۔دورحاضر میں "لتعارفوا" کی تفہیم میں تین مختلف جہات ہیں :(۱)انسان کی نسب کی پہچان مقصود ہوتی ہی۔جیسیفلاں سید ہی۔(۲) چند مخصوص خاندانی بری خصلتوں کی طرف اشارہ ہوتا ہی۔ یہ پہلو تضحیک کا معنی اپنیضمن میں لیی ہوتا ہی۔(۳)تعارف و پہچان کا ایک غلط طریقہ یہ بھی اپنایا گیاکہ کم ظرف اور بری عادات کی مالک لوگ اپنی خفت مٹانی کی لیی اپنی نسبت ایسی خاندان سی کرتی ہیں جن کی پہچان ایک باعزت گھرانی کی طور پر ہوتی ہی۔اسلام میں حسب ونسب کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہی۔ دور حاضر میں موخر الذکر دو جہتوں کی وجہ سی لوگ اپنی حسب و نسب سی دوری اختیار کر سکتی ہیں ۔ اور یہ خاندانی نظام کی ٹوٹنی کا سبب بھی بن سکتا ہی ۔ جبکہ یورپ میں آج بھی شیفرڈ،ٹیلرز جیسی الفاظ ان کی ناموں کی ساتھ ملتی ہیں جس کو عار محسوس نہیں کیا جاتا۔اس مقالی میں شعوب و قبائل کی فلسفی کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا جائی گا۔
نویسندگان
حافظ محمد طاہر المصطفی
لیکچرار ،یونیورسٹی آف لاهور،پاکپتن کیمپس ،پنجاب
محمد عمر راحیل
ڈائریکٹر، میزان ریسرچ انسٹیٹیوٹ ساهیوال، پنجاب