عصرحاضر میں خاندان کو درپیش معاشرتی مسائل اسلامی تعلیمات کی تناظر میں ان کا حل
محل انتشار: دوفصلنامه مطالعات علوم قرآن، دوره: 1، شماره: 2
سال انتشار: 1397
نوع سند: مقاله ژورنالی
زبان: فارسی
مشاهده: 95
فایل این مقاله در 34 صفحه با فرمت PDF قابل دریافت می باشد
- صدور گواهی نمایه سازی
- من نویسنده این مقاله هستم
استخراج به نرم افزارهای پژوهشی:
شناسه ملی سند علمی:
JR_MAQ-1-2_006
تاریخ نمایه سازی: 1 دی 1403
چکیده مقاله:
خاندان معاشری کا سب سی اہم اور بنیادی یونٹ ہی جو مرد اور عورت کی درمیان رشتہ ازدواج سی وجود میں آتا ہی ،معاشری کی ترقی ونشونما کا انحصار جہاں خاندان پر ہی وہاں معاشری کی تنزلی وانتشار کا انحصار بھی اسی خاندان پر ہی ،کیونکہ خاندان ہی معاشری کی اساسی اکائی کی حیثیت رکھتاہی ، اور اسی سی معاشری وجود میں آتی ہیں ،جس خاندان کی اکائی مضبوط اور مستحکم ہو گی اس معاشری کی اقدار روایات مستحکم ہوں گی ،خاندان کی اہمیت کا اندازہ ا س سی لگا یا جا سکتا ہی کہ اسلامی تعلیمات کا ایک مکمل شعبہ جو اسلام کی عائلی نظام سی موسوم ہی اس مقصد کی لئی وجود میں لایا گیا ، قرانی تعلیمات اور اسوہ رسول ﷺنی خاندان کو انتشار سی بچانی کی لئی اور اسی استحکام بخشنی کی لئی باہمی حقوق وفرائض کا ایک سلسلہ قائم کررکھا ہی،جس پر عمل پیرا ہو کر انفرادیت پسندی ،عدم اعتماد،پریشانی اور انتشار جیسی معاشرتی امراض کا مقابلہ کیا جا سکتا ہی ،اسلام فرد اور جماعت کی تعلق میں جس توازن واعتدال کا علمبردار ہی اس کا تقاضا ہی کہ خاندان کی حیثیت ایک اجتماعی اکائی کی طور پر قائم رہی تاکہ اجتماعی تربیت کا ابتدائی مرکز وسیع تر اجتماعی شعور اور فلاح کی لئی موثر کام کری۔یہ مقالہ اسی اہمیت کو ملحوظ خاطر رکھتی ہوئی لکھا گیا ہیاس میں حتی الامکان کوشش کی گئی ہی کہ ان تمام اسباب و عوامل کو تفصیل سی بیان کیا جائی جو خاندانی استحکام کو سبوتاژ کرتی ہیں۔
کلیدواژه ها:
نویسندگان
خانم ام سلمی ام سلمی
لیکچرار (وزیٹنگ)شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاهور
خانم ثمینه سعدیه سعدیه
اسسٹنٹ پروفیسر شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاهور